01.07.2022

Launch of People's Manifesto in Skardu, Gilgit Baltistan

اسکردو میں فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ کے زیر اہتمام  شہریوں کے درمیان مکالمے کا اہتمام کیا گیا ۔ مکالمے کا عنوان گلگت بلتستان کے شہریوں کا ترقیاتی منشور تھا جس میں اسکردو کی سیاست، سماج ، صحافت ، سیاحت اور انتظامیہ سے جڑی اہم شخصیات شریک تھیں ۔

 

اس مکالمے کے پس منظر میں پوری ایک تحریک تھی ۔  فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ  کی معاونت سے معروف صحافتی ادارے انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشنز کے زیر اہتمام 2020 میں گلگت بلتستان کے دس اضلاع گلگت ، استور ، دیامر ، غذر ، نگر، ہنزہ ، اسکردو ، کھرمنگ ،شگر اور ضلع گانچھے کے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ مل کر یہ ترقیاتی منشور تیار کیا گیا تھا جسے بعد میں " گلگت بلتستان کے شہریوں کا ترقیاتی منشور " کے نام سے شائع بھی کیا گیا ۔

 

مکالمے کے شرکاٗ نے بتایا کہ گلگت بلتستان کا ترقیاتی منشور ایک اہم دستاویز ہے جس میں بڑی محنت کے ساتھ گلگت بلتستان کے مسائل اور ان کا حل تجویز کیا گیا ہے ۔ شرکا نے بتایا کہ اس دستاویز میں جن امور کی نشاہدہی کی گئی تھی ، ان میں سے صرف جگلوٹ اسکردو روڈ کی تعمیر، سیاحت اور انٹرنیٹ کے جڑے چند مسائل کے جزوی حل کے علاوہ باقی کوئی کام نہیں ہوا ۔

 

گلگت بلتستان اس وقت بہت سے مسائل سے دو چار ہے ، لوڈ شیڈنگ ، تباہ حال سڑکیں ، بغیر منصوبہ بندی کے تعمیرات ، ناقص تعمیراتی میٹریل ، بے ہنگم ٹریفک، سیاحتی مقامات پر انفراسٹکچر کا نہ ہونا ، فرقہ وارانہ کشیدگی ، سیاحتی مقامات پر صفائی ستھرائی کی ابتر حالت ، تعلیمی اداروں کی کمی اور موجود اداروں میں انفراسٹکچر کی کمی ، لڑکیوں کے لیے کالجز کی کمی ، اسپتالوں میں آپریشن تھیٹر کی عدم دستیابی ، صحت عامہ کے مسائل ، جعلی ادویات کی بھرمار ، اسپتالوں کی ناقص حالت ، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی ، ماحول کی تباہی ، گلیشئیرز کا پگھلنا ، موسم کی تبدیلی ، لینڈ سلائیڈنگ کے بارے میں جامع حکمت عملی ، اور انٹرنیٹ کے فقدان سمیت بیسیوں ایسے مسائل ہیں جن پر بات کرنے اور انہیں حل کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

مکالمے کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ  گلگت بلتستان مسائلستان بن چکا ہے ۔ لوگ بنیادی سہولیات اور مسائل کا شکار ہیں ۔ وسائل اور مسائل کا عدم توازن ہے ۔ آبادی بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے بجلی ، پانی ، تعلیم اور صحت کے مسائل مزید گھمبیر ہوتے جارہے ہیں ۔ مقامی سطح پر انڈسٹری اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے ۔

 

شرکا نے کہا کہ کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اپنے بنیادی مسائل سے آگاہی نہیں رکھتے، جب مسائل سے آگاہی ہی نہیں ہوگی تو پھر حل کی طرف کیسے جائیں گے ؟ ان کا کہنا تھا کہ ہیومن ریسورس کو اہمیت دینی چاہیے۔ اسکردو میں فنی اور ٹیکنکل ایجوکیشن کا فقدان ہے ، اس کے لیے تعلیم اور تربیتی سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے تا کہ روزگار کے مسائل حل ہو سکیں ۔ طلبہ و طالبات کے لیے  لائبریریز کا قیام عمل میں لانا چاہیے اور یہ لائبریزیز کم از کم سولہ گھنٹے کھلی ہونی چاہییں ۔

 

ورکشاپ کے شرکا نے بتایا کہ یہاں شہریوں اور سماجی ایشوز پر بات کرنے اور سننے والا کوئی نہیں ۔ میں اسٹریم میڈیا کے نزدیک شمالی علاقہ جات فقط ایک تفریح یا حادثات ہیں ، اس کے علاوہ ان علاقوں کی کوئی خبر نمایاں طور پر نشر نہیں کی جاتی ۔ انتطامی عہدوں پر مقامی افراد کے بجائے باہر سے لوگوں کو لا کر تعنیات کیا جاتا ہے جو مقامی ثقافت اور مسائل سے قطعی طور پر نا آشنا اور نا بلد ہوتے ہیں ۔ تعلیمی اداروں میں مضامین کے ماہرین کی کمی ہے۔ کیمسٹری ، فزکس اور بائیو میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے والوں کے لئے ٹیچنگ کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ۔ خواندگی کا لیول یہ ہے کہ کوئی شخص اپنا نام پڑھ اور لکھ سکتا ہوں ، اسے خواندہ تصور کیا جاتا ہے ۔ شرکا نے بتایا کہ ایڈونچر ٹورازم زیادہ ہونے کے باعث آلودگی بڑھ رہی ہے۔ خوبصورت پہاڑ  گندگی اور کوڑے کے ڈھیر بن چکے ہیں ۔ صاف اور شفاف ہوا ناقابل بیان حد تک بدبو بن چکی ہے ۔ شرکا نے بتایا کہ سیاح اور ایڈونچرسٹ جب پہاڑوں پر جاتے ہیں تو سیلنڈر اوپر ہی چھوڑ آتے ہیں جو ماحول کو تباہ کر رہے ہیں ۔ سلنڈر لیک ہونے یا پھٹنے کی وجہ سے  سے آگ لگ سکتی ہے۔

 

مکالمے سےوزیراعلی گلگت بلتستان کے مشیر تقی اخونزادہ، ایف ای ایس کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر نیلز ہیگویش، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر وقاص جوہر ، اسسٹنٹ کمشنر غلام علی ، ڈیجیٹل میڈیا الائینس فار پاکستان کے چئیرمین سبوخ سید ، سینیئرصحافی نثار عباس ، محمد حسین آزاد، رجب علی قمر ، ایف ای ایس کے پراجیکٹ ایڈوائزر ہمایون خان ، سماجی اور مذہبی رہنما سیدہ فاطمہ موسوی ، صالحہ اسدی  ، شاہین بانو اور  ایاز شگری نے مسائل اور ان کے حل پر بات چیت کی ۔

 

مکالمے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ سماجی مسائل کے حل کے لیے معاشرے کے نمائندے افراد کی جانب سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں تمام طبقات کی نمائندگی ہو ۔ مہینے میں کم از کم ایک دوبار باہمی نشستوں کی وجہ سے بہت سے مسائل کی نشاہدہی اور ان کا حل ممکن ہے ۔

 

Friedrich-Ebert-Stiftung
Pakistan Office

P.O. Box 1289
Islamabad, Pakistan

+92 51 2803391-4
info.pakistan(at)fes.de

Contact us

Publications